حسین علیہ السلام وارث انبیاء علیہم السلام

مناسبت، نثر رائے ديں »

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ہر خاندان کی ایک میراث ہوتی ہے۔ اور اس کی حفاظت اس خاندان کے تمام افراد کا فریضہ ہوتا ہے۔ یہ خاندان جتنا بڑا اور عظیم ہوتا ہے، یہ میراث بھی اتنی ہی خاص اور ارزشمند ہوتی ہے۔ خاندان کے افراد خاص تدابیر کے ذریعے اس کی حفاظت  کرتے ہیں، اغیار اور نااہلوں کی پہنچ سے اسے دور رکھتے ہیں۔ بعض اوقات تو حفاظت کے لیے جان بھی دینے سے پرہیز نہیں کیا جاتا۔ لیکن یہ سب اس وقت ہوتا ہے کہ جب خاندان کے افراد اس میراث کو جانتے ہوں،  اس کی قدر و قیمت سے واقف ہوں،  اور اس سے بڑھ کر یہ کہ ان میں احساس اور ذمہ داری ہو۔ تب کہیں جاکے اس کی کماحقہ حفاظت ہوتی ہے اور آئندہ نسلوں تک پہنچتی ہے۔ ہر نسل یہ امانت آنے والی نسل کو سونپتی ہے، قدر و قیمت سے آگاہ کرتی ہے، اور امانتداری و حفاظت کا حلف لیتی ہے۔ اسی طرح نسلوں اور صدیوں تک یہ میراث محفوظ رہتی ہے۔ وقت کے گذرنے کے ساتھ جب اغیار کو اس کی ارزش کا اندازہ ہوتا ہے، تو اہل خاندان کے لیے حفاظت کا عمل مشکل اور مشکل تر ہوتاجاتا ہے، کیونکہ وہ اس میراث کو چہیننے یا ضائع کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کرتے ہیں۔ اسی لیے ہر نسل کی ذمہ داری بڑھتی جاتی ہے۔

خیر یہ تو ایک حقیقت تھی۔ اب ذرا ایک اور تاریخی حقیقت کی جانب متوجہ ہوں۔

ایک بہت بڑا اور عظیم خاندان تاریخ کے ساتھ چلا آرہا ہے۔ یا بہتر الفاظ میں، تاریخ اس کے ساتھ چلی آرہی ہے۔ جب انسان کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں۔ یہ تاریخ جناب آدم علیہ السلام سے شروع ہوتی ہے۔ اور وہ ہی اس عظیم خاندان کے جد ہیں۔ ان کو خدا نے ایک امانت سونپی۔ ایک نہایت عظیم امانت سونپی۔ ایسی امانت کہ جس کو کائنات میں انسان کے علاوہ کوئی برداشت نہ کرسکا۔ لیکن انسان نے اپنی عظمت اور قدرت کا مظاہرہ کیا اور بےشمار سختیوں کے باوجود اس امانت کو خدا سے لے لیا، اور اس کی حفاظت کا حلف اٹھایا۔ یہ امانت سب سے پہلے آدم و حوّا علیہم السلام کو سونپ دی گئے۔ اس شجاعت اور ہمت کے سبب ان کو خلافت الہی کا مقام دیا گیا۔ اور کائنات کو ان کا تابع کردیا گیا۔

خیر یہ امانت میراث کے طور پر اس عظیم خاندان میں محفوظ رہی۔ہر نسل کے بزرگ نے اس کو اگلی نسل کے حوالے کیا۔ آدم ع نے شیث ع کے حوالے کیا، اور اسی طرح سلسلہ انبیاء میں یہ امانت  چلتی رہی اور ان عظیم ہستیوں نے جان و مال کا لحاظ کیے بغیر اس کی حفاظت میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔  یہ میراث نسلوں میں منتقل ہوتی رہی۔ نوح ع، ابراہیم ع، اسماعیل ع، عیسی ع اور آخر میں ہمارے نبی عظیم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس امانت کے  حامل اور حافظ رہے۔ ویسے حاملوں اور حافظوں کی تعداد بہت زیادہ ہے لیکن یہاں سب کا ذکر ضروری نہیں۔ جب نبی کریم ص کے ہاتھ یہ امانت سونپی گئی۔ اس کی حفاظت بہت مشکل ہوگئی تھی کیونکہ آپ ص سب سے آخری نبی ہونے کے ساتھ، سب سے عظیم بھی تھے۔ آپ کے شانوں پر نہ صرف اس امانت کا وزن تھا بلکہ اس کے ساتھ تمام گذشتہ انبیاء و رسل کی خدمات، زحمات اور قربانیوں کا بوجھ بھی تھا۔ اس سے بڑھ کر یہ بات بھی تھی کہ اس خاندان انسان کے کچھ افراد اتنا اپنے خاندانی اصول  سے دور ہوگئے تھے کہ اب اس خاندان کے لحاظ سے ان کا شمار غیروں میں ہوتا تھا اور وہ اس میراث عظیم کی تباہی کے در پئے تھے۔ چنانچہ آپ ص نے بڑی مشکل اور مشقت کے ساتھ اس رسالت کو پورا کیا۔ اس مشکل کام میں اپنے خاندان کو بھی ساتھ لیا۔ اور ان کو بھی عظیم قربانیوں کے لیے تیار کیا۔

اس میراث کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔ آپ ص کے ماننے والوں نے کیا کیا۔ بہت لمبی داستان ہے۔ یہاں یہ بیان کرنا مقصود نہیں۔

اصل بات جو کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے۔

یہ میراث کیا ہے۔ اس کا جواب آپ خود ہی جان گئے ہوں گے۔ لیکن اس کی اہمیت واضح کرنے کے لیے یہ بیان کرنا ضروری ہے۔ جیسا کہ عرض کرچکا ہوں کہ میراث کی ارزش جاننے کے لیے۔ اس میراث کے ورثا کا سلوک دیکھنا ہوگا۔ یعنی ورثا اس کی حفاظت کے لیے کس حد تک جانفشانی کرتے ہیں۔ اس کا ایک نمونہ خاطر میں لائیے۔

یہ میراث سن51ہجری میں حضرت امام حسین علیہ السلام کو سونپی گئی۔ یہ دور وہ ہے کہ امت مسلمہ اپنے نبی ص کی میراث سے بہت دور جاچکی ہے۔ اس میراث کی حفاظت کو بھول چکی ہے۔ اور ایسے لوگ وراثت کے مدعی ہیں جن کے بارے میں امام حسین علیہ السلام فرماتے ہیں کہ “وہ ایک فاجر و فاسق شخص ہے۔ میں اس کی بیعت ہرگز نہیں کروں گا۔”

اس وقت اصلی وارث کی نشاندہی ضروری ہے۔ چنانچہ اس میراث عظیم کا وارث حقیقی اپنے خاندان کے ساتھ میراث انبیاء کی حفاظت کو نکلتا ہے۔ حسین علیہ السلام اپنی تمام دولت، وہ بھائی ہوں، بہنیں ہوں، اولاد ہوں، غلام ہوں، دوست ہوں، یار ہوں، کہ پیسے ہوں۔ سب کو جمع کرتے ہیں۔ اور منزل معہود کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔ رستے میں بار بار یہ اعلان کرتے ہیں کہ میں حصول حکوت کے لیے نہیں جارہا۔ دولت یا سلطنت حاصل کرنے نہیں جارہا۔ میں شہادت کا رتبہ پانے جارہا ہوں۔ جہاں کوئی لشکر آپ سے ملنے آیا، اعلان کردیا کہ اگر دولت کی خواہش ہے تو میں ویسے ہی تمہاری جیبیں بھر دیتا ہوں۔ لیکن میرے ساتھ نہ آو۔ کیونکہ حسین ع موت سے ملنے جارہا ہے۔

کربلا میں امام علیہ السلام کئی مقاصد سے آئے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ تمام عالم کو یہ دکھا دیں کہ، میراث انبیاء کا وارث حقیقی کون ہے۔ اور مسلمانوں کو اس کی ارزش سے آگاہ کردیں۔ کہ مسلمانو، دیکھو کہ حسین نے اپنا سب کچھ اس پر قربان کردیا۔ بھائی، بھنیں، اولاد، دوست، عزیز، دولت، سب کچھ اس میراث کی حفاظت کے لیے قربان کردیا۔ تو اسی سے اندازہ کریں کہ اس میراث کی کیا قیمت ہے۔ جس کے لیے امام حسین علیہ السلام جیسی شخصیت نے اتنی عظیم قربانی دی۔ صرف یہ نہیں اپنے بعد، اپنی تحریک کا علم، اپنی بہن جناب زینب سلام اللہ علیہا کے حوالے کیا۔ اور جناب زینب س نے کتنی مشقتیں جھیلیں، ان کے بیان سے یہ قلم قاصر ہے۔

امام حسین علیہ السلام نے تمام مسلمانوں پر، بلکہ تمام انسانوں پر حجت تمام کردی۔ رہتی دنیا تک اب کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہم کو اس میراث کی قدر و قیمت معلوم نہیں۔ ہم اس کو نہیں جانتے۔ یہ امام حسین علیہ السلام کی تحریک کا ایک چھوٹا سا اثر ہے۔ اس کے اثرات ایک دو یا تین صفحات میں بیان نہیں کیے جاسکتے۔

اب جو بات ہمارے لیے سب سے زیادہ قابل غور ہے وہ یہ ہے کہ، یہ میراث اب ہمارے سامنے ہے۔ ہم اس کے ساتھ کیا سلوک کررہے ہیں؟ کیا ہم اسلام پر عمل پیرا ہیں؟ کیا اگر اسلام کو دوبارہ کسی عظیم قربانی کی ضرورت ہو تو ہم امام حسین ع کی طرح اپنا سب کچھ لٹا سکتے ہیں؟ کیا ہم اپنی جان دینے کو تیار ہیں؟ کیا ہم اس میراث کی حفاظت کررہے ہیں، یا ابھی بھی کسی حسین علیہ السلام کے منتظر ہیں کہ آ کر ہمیں اس میراث کی قدر و قیمت بتائے؟

اگر مسلمانوں میں شعور اجاگر ہوجائے، اور مسلمان اس راہ پر گامزن ہو جائیں، تو یہ دنیا میں عزیز ہوجائیں گے، کوئی باطل قدرت ہمارے سامنے سر نہ اٹھا پائے گی۔ یہ تو دنیا کی بات ہے۔ آخرت میں جو ہوگا وہ تصور سے بڑھ کر ہے۔

خدایا! وارث انبیاء، امام حسین علیہ السلام اور شہدائے کربلا کے صدقے!

مسلمانوں کو شعور، آگہی اور ہمت دے۔

کربلا کے مقصد کو جاننے کی قدرت دے۔

اسلام حقیقی پر گامزن ہونے کی توفیق و جرات دے۔

آمین

سید محمد نقوی فاضل

بارہ محرم الحرام

چودہ سو اکتیس

Share This Post

اے دین مصطفی ہو مبارک تجھے یہ دن

شعر، مناسبت 2 آراء »

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ویسے تو آج ۱۹ ذی الحجۃ ہوگئی ہے، اور عید قربان اور عید غدیر دونوں ہی گذر گئی ہیں۔ لیکن چونکہ مصروفیت کے سبب ان دو دنوں کے حوالے سے کچھ لکھ نہیں پایا تو سوچا آج دونوں کو ایک کرکے، کم از کم مبارک باد ہی عرض کردوں۔

تمام مسلمین کو میری طرف سے عید قربان اور عید غدیر مبارک ہوں۔

اور بارگاہ الہی میں دعا ہے کہ تمام حاجیوں کا حج قبول فرمائے۔

اور ملت مسلمہ کو سربلندی عنایت فرمائے۔

آمین

عید غدیر کے حوالے سے چند شعر لکھے تھے جو پیش کررہا ہوں امید ہے کہ بارگاہ الہی میں قبول ہوں۔ آمین

جبریل تم کو آج یہ کیسا سرور ہے؟

خم کی زمیں بتا کہ تجھے کیوں غرور ہے؟

سمجھا ہوں میں کہ آج الگ سا نزول ہے

اے دشمنِ نبی ترا ہنسنا فضول ہے

رشکِ مکینِ عرش ہے منبر سجا ہوا

بہر ادب ہے سارا زمانہ جھکا ہوا

مہمان آج تیرے نبیّ و وصی ہیں خُم

عظمت میں تیری سارا زمانہ ہے آج گُم

اے دین مصطفی ہو مبارک تجھے یہ دن

اکمال ہورہا ہے تو یہ عید کا ہے دن

آتی ہے ہر طرف نِدائے علی ولی

اعلان کررہے ہیں نبی ہے علی ولی

عید غدیر ۱۴۳۰

Share This Post

کوئی خاص خبر سناو۔۔۔

متفرق 6 آراء »

بسم اللہ الرحمن الرحیم

چند دن پہلے کی بات ہے، دوستوں کے ساتھ بیٹھا تھا۔ باتیں ہورہی تھیں، میں نے ایک خبر سنائی۔ پشاور میں آج صبح دھماکہ ہوا ہے۔ ایک پشاور کے دوست تھے ان سے پوچھا، آپ نے گھر فون کرکے خیریت معلوم کی یا نہیں؟

میرا یہ کہنا تھا کہ ہمارے ایک عزیز دوست نے ارشاد فرمایا: یہ معمول کی بات ہے۔ جس دن پاکستان میں دھماکہ نہ ہو یا کوئی مارا نہ جائے اس دن تعجب ہوتا ہے کہ کچھ کیوں نہیں ہوا؟ کوئی خاص خبر ہو تو سناو۔

گرچہ ان کا تعلق پاکستان سے نہ تھا، لیکن مجھ سے رہا نہ گیا، کچھ بولنے والا تھا، کہ ہمارے پاکستانی ساتھیوں نے کسر پوری کردی۔ ان کی ہاں میں ہاں ملا کر، تایید کردی۔ میں تو حیران رہ گیا۔ میرے لیے تو ایک انسان کے قتل سے بڑھ کر کوئی خبر، خاص نہیں ہوتی، چہ جائی کہ چند انسان ہوں۔  اب میں کیا کہتا؟ جب اپنوں کو بھی کوئی غم نہ ہو۔

میں یہاں کوئی سیاسی بات نہیں کہنا چاہتا۔ اور نہ ہی کوئی راہ حل یا اس قسم کی کوئی بات کرنا چاہتا ہوں، کیونکہ میری یہ حیثیت نہیں۔ بس ایک بات جو دل پر بوجھ بنی تھی لکھنا چاہتا ہوں۔

یہ حال دیکھ کر مجھے بہت افسوس ہوا کہ یہ ہمارے پڑھے لکھوں کا حال ہے۔ جو خود کو بڑا سیاستدان سمجھتے ہیں، اگر کہیں کوئی سیاسی بحث ہو تو ایسی تحلیلیں پیش کرتے ہیں جیسے ان پر وحی اتری ہو، نعوذ باللہ۔ لیکن اپنے ہم وطن بھائیوں کے قتل پر ذرہ برابر جو افسوس ہوا ہو۔ یہ اس وجہ سے ہے کہ ہمارے لیے لوگوں کا قتل روز کا معمول بن گیا ہے۔ ہم نے خود کو اس کا عادی کردیا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں میں احساس مرگیا۔ اب کسی کو بتاو کہ دس آدمی فلاں دھماکے میں مارے گئے، جوابا کہا جائے گا، “بس، دس آدمی”! جیسے متاثر ہونے کے لیے کم از کم ہزار ڈیڑھ ہزار کی ضرورت ہو۔

یہی ہمارا دشمن چاہتا ہے، کہ ہم اس کے عادی ہوجائیں، اور ہمارے اندر انسانیت مرجائے۔ آپس میں ہمدردی ختم ہوجائے۔ ہر کسی کو اپنی جانِ عزیز کی فکر ہو۔

اب حال یہ ہے، اگر دھماکے یا قتل کی خبر سنائی جائے، سامنے والا کہے گا، کوئی بات نہیں میرے گھر پہ تو نہیں ہوا نا۔ خدا کرے یہاں نہ ہو۔ یا اگر بہت زیادہ درد رکھتا ہو تو پوچھے گا، سنی علاقے میں ہوا یا شیعہ علاقے میں۔ جواب سن کر اپنے مسلک کے حساب سے تاسف یا خوشی کا اظہار کرے گا۔ شہید کا لقب دے گا یا مردہ کہہ کر گذر جائے گا۔ اور زندگی جاریست، جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ خدا نخواستہ مقتول مسلامن نہ ہو تو اس کی خیر نہیں، ہمدردی تو دور کی بات ہے، قاتل کی مدح سراءی ہوگی، کہ ایک غیر مسلمان کو مارا، بہت خوب۔ کیا انسانی جان کی یہی حیثیت رہ گئی ہے۔ قرآن میں خدا نے انسانی جان کی کتنی اہمیت بیان کی ہے، بگغیر دین و مذہب کی تفریق کے۔ اب اسی قرآن کے [نام کے] پیرو کار، انسانوں کے قتل پر خاموش ہیں۔

ایسا کیوں ہے؟ کب ہمیں احساس ہوگا کہ ہمارے ساتھ کیا چال چلی جارہی ہے؟ بہت دیر ہوچکی ہے یہ سب سمجھنے اور کچھ کرنے کے لیے، مزید دیر نہ ہونے دیں، کچھ تو کریں ۔۔۔

Share This Post

موت کی آغوش میں جب تھک کے سوجاتی ہے ماں ۔۔۔۔

نثر 8 آراء »

بسم اللہ الرحمن الرحیم

انا للہ وانا الیہ راجعون

موت کی آغوش میں جب تھک کے سوجاتی ہے ماں

تب کہیں جاکے رضا تھوڑا سکوں پاتی ہے ماں

میرے دوست اور بھائی کی ماں ہمیں داغ مفارقت دے گئیں، یہ خبر مجھے اس طرح ملی،

پچھلی عید قربان سے، قربانی کا گوشت فریزر میں رکھا تھا، تا کہ جب میں جاوں تو ۔۔۔

یہ جملہ پورا نہ کرسکا ، کیونکہ آنکھوں سے آنسو جاری ہوچکے تھے، بولنا مشکل تھا۔ میں گیا تھا بھلانے کے لیے، لیکن میرے اپنے آنسو رواں تھے۔ کیسے ڈھارس دیتا۔ میں یہ غم سہہ نہیں پارہا تھا، نہ جانے میرے دوست کا کیا حال ہوگا۔۔۔

چپ رہا ، اس سوچ میں کہ غربت، اور اتنا بڑا غم، ایک ہفتے سے جانے کی تیاری کررہا تھا کہ آخری بار ملاقات ہوجائے، لیکن خدا کو منظور نہ تھا۔ گرچہ میں دل بھلانے کے فرائض پورے ن کرسکا لیکن خدا کا احسان ہے کہ ابھی بھی لوگوں کو یہ احساس ہے کہ جب کسی کے ہاں موت ہوتی ہے تو تمام مسائل چھوڑ کر آجاتے ہیں، تسلیت دینے۔ چنانچہ جب دوست کو گھر پہنچایا، تھوڑی دیر میں تمام احباب آگئے، اور میں اکیلا ایک کونے میں سوچنے لگا۔ کہ ہمارے پاس کچھ ایسے خزانے ہوتے ہیں کہ جب تک سامنے ہوتے ہیں تو ان کو نظر انداز کرتے رہتے ہیں۔ لیکن جب نظروں سے اوجھل ہوجاتے ہیں تب ہمیں ان کی قدر ہوتی ہے۔

ماں ان میں سب سے زیادہ قابل ذکر ہے۔ اکثر ہم اس عظیم ہستی کو بھول جاتے ہیں، شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ وہ ہماری خاطر خود کو بھلادیتی ہے، اور ہم بھی بھول جاتے ہیں۔ لیکن جس دن یہ سہارا جس پر پورا زور دے کر کھڑے ہیں، ہٹ جاتا ہے، تب ہمیں خیال آتا ہے کہ ہم کو یہاں کس نے پہنچایا۔ میں تو وہ دن تصور بھی نہیں کرسکتا کہ خدا نخواستہ ۔۔۔۔

میری اللہ سے دعا ہے، کہ میری امّی جان کو صحت، سلامتی اور طول عمر دے۔ بلکہ تمام ماوں کو سلامتی اور طول عمر دے۔

اور

آپ سب سے درخواست ہے کہ میرے دوست اور بھائی حسین الفواد کی والدہ مرحومہ، میری دادی ، نانی  اور تمام ماوں کے لیے سورہ فاتحہ کی تلاوت، اور مغفرت کی دعا فرمائیں۔

جو مائیں زندہ ہیں، ان کی طول عمر اور سلامتی کی دعا کریں۔

اور  اس عظیم ہستی کی قدر کریں، کہیں دیر نہ ہوجائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جناب رضا سرسوی صاحب کی نظم، ماں،یہاں پیش کررہا ہوں، کہ میرے پاس اس ہستی کے لیے الفاظ نہیں ۔۔۔

موت کی آغوش میں جب تھک کے سوجاتی ہے ماں
تب کہیں جاکر رضا تھوڑا سکوں پاتی ہے ماں

موت کی آغوش میں بھی کب سکوں پاتی ہے ماں
جب پریشانی میں ہوں بچے تڑپ جاتی ہے ماں

جاتے جاتے پھر گلے بچے سے ملنے کے لئے
توڑ کر بند کفن باہوں کو پھیلاتی ہے ماں

روح کے رشتوں کی یہ گھرائیاں تو دیکھئے
چوٹ لگتی ہے ہمارے اور چلاتی ہے ماں

بھوکا سونے ہی نہیں دیتی یتیموں کو کبھی
جانے کس کس سے کہاں سے مانگ کر لاتی ہے ماں

ہڈیوں کا رس پلاکر اپنے دل کے چین کو
کتنی ہی راتوں کو خالی پیٹ سوجاتی ہے ماں

جب کھلونے کو مچلتا ہے کوئی غربت کا پھول
آنسووں کے ساز پر بچے کو بھلاتی ہے ماں

ماردیتی ہے طمانچہ گر کبھی جذبات میں
چومتی ہے لب کبھی رخسار سہلاتی ہے ماں

کب ضرورت ہو مِری بچے کو اتنا سوچ کر
جاگتی رہتی ہے ممتا اور سوجاتی ہے ماں

گھر سے جب پردیس کو جاتا ہے گودی کا پلا
ہاتھ میں قرآں لئے آگن میں آجاتی ہے ماں

دیکے بچے کو ضمانت میں رضائے پاک کی
سامنا جب تک رہے ہاتھوں کو لہراتی ہے ماں

لوٹ کر واپس سفر سے جب بھی گھر آتے ہیں ہم
ڈال کر باہیں گلے میں سر کو سہلاتی ہے ماں

ایسا لگتاہے کہ جیسے آگئے فردوس میں
کھینچ کر باہوں میں جب سینے سے لپٹاتی ہے ماں

دیر ہوجاتی ہے گھر آنے میں اکثر جب ہمیں
ریت پہ مچھلی ہو جیسے ایسے گھبراتی ہے ماں

مرتے دم بچہ نہ آئے گھر اگر پردیس سے
اپنی دونوں پتلیاں چوکھٹ پہ رکھ جاتی ہے ماں

حال دل جاکر سنا دیتا ہے معصومہ کو وہ
جب کسی بچے کو اپنی قم میں یاد آتی ہے ماں

تھام کر روضے کی جالی جب تڑپتاہے کوئی
ایسا لگتاہے کہ جیسے سر کو سھلاتی ہے ماں

گمرہی کی گرد جم جائے نہ میرے چاند پر
بارش ایمان میں یوں ہرروز نھلاتی ہے ماں

اپنے پہلو میں لٹاکر روز طوطے کی طرح
ایک بارہ پانچ چودہ ہم کو رٹواتی ہے ماں

عمر بھر غافل نہ ہونا ماتم شبیر سے
رات دن اپنے عمل سے ہم کو سجمھاتی ہے ماں

دوڑ کر بچے لپٹ جاتے ہیں اس رومال سے
لےکے مجلس سے تبرک گھر میں جب آتی ہے ماں

یاد آتا ہے شب عاشور کا کڑیل جواں
جب کبھی الجھی ہوئی زلفوں کو سلجھاتی ہے ماں

اللہ اللہ اتحاد صبر لیلا اور حسین
باپ نے کھینچی سناں سینے کو سہلاتی ہے ماں

سامنے آنکھوں کے نکلے گر جواں بیٹے کا دم
زندگی بھر سر کو دیواروں سےٹکراتی ہے ماں

سب سے پہلے جان دینا فاطمہ کے لال پر
رات بھر عون ومحمد سے یہ فرماتی ہے ماں

یہ بتا سکتی ہے بس ہم کو رباب خستہ تن
کس طرح بن دودھ کے بچے کو بھلاتی ہے ماں

شمر کے خنجر سے یا سوکھے گلے سے پوچھئے
ماں ادھر منھ سے نکلتاہے ادہر آتی ہے ماں

اپنے غم کو بھول کر روتے ہیں جو شبیر کو
ان کے اشکوں کے لئے جنت سے آجاتی ہے ماں

باپ سے بچے بچھڑجائیں اگر پردیس میں
کربلا سے ڈھونڈنے کوفے میں خود آتی ہے ماں

جب تلک یہ ہاتھ ہیں ہمشیر بے پردہ نہ ہو
ایک بہادر باوفا بیٹے سے فرماتی ہے ماں

جب رسن بستہ گزرتی ہے کسی بازار سے
ایک آوارہ وطن بیٹی کو یاد آتی ہے ماں

شکریہ ہو ہی نہیں سکتا کبھی اس کا ادا
مرتے مرتے بھی دعا جینے کی دے جاتی ہے ماں

Share This Post

قرآن میں ہیروگلیف، تفسیر قرآن میں ایک نیا باب

علوم قرآن، ہیروگلیف اور قرآن 16 آراء »

بسم اللہ الرحمن الرحیم

قرآن میں ہیروگلیف، تفسیر قرآن میں ایک نیا باب

شاید آپ کو بھی یہ عنوان پڑھ کر تعجب ہوا ہو، کہ قرآن اور ہیروگلیف میں کیا ربط ہے۔ مجھے بھی اس عنوان کی کتاب دیکھ کر بہت تعجب ہوا۔ پہلے تو یہ سمجھا کہ ایسے ہی عنوان دیا ہے کتاب کی طرف راغب کرنے کے لیے۔ لیکن جب اٹھا کر دیکھی تو معلوم ہوا کہ نہیں مولف نے واقعا قرآن میں ہیروگلیف ڈھونڈ نکالی ہے۔ خیر کتاب خریدی۔ اصل عربی تو نہیں ملی، ترجمہ ہی پڑھ ڈالا، بہت مزہ آیا۔ کیونکہ مولف نے تفسیر کلام الہی میں ایک نیا باب کھولا ہے، اور کہا جاسکتا ہے کہ کافی حد تک کامیاب ہوا ہے۔ بعض الفاظ کا بہت اچھا ترجمہ کیا ہے۔

یہ کتاب جناب سعد عبدالمطلب العدل نے لکھی ہے۔ یہ ایک مصری محقق، ماہر قرآنیات، تاریخ اورادیان ہیں۔ انہوں نے ایک سلسلہ کتب لکھی ہے جس کا عنوان ہے، “الہیروغلیفیہ تفسر القرآن الکریم”۔ اس عنوان کے تحت، ابھی تک چار کتابیں لکھی ہیں۔

۱۔ شرح ما یسمی بالحروف المقطعہ

۲۔ السبع المثانی لیست صورۃ الفاتحہ

۳۔ اخناتون ابوالانبیا

۴۔ الخلیل اخناتون فی القرآن الکریم

فی الحال اس سلسلے کی پہلی کتاب کا مطالعہ کیا ہے۔ اصل عربی دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے اس کا ترجمہ پڑھا۔

اس کتاب کے مقدمے میں مولف نے چند مقدمات بیان کرنے کے بعد، لکھا ہے کہ مصری زبان جسے آجکل ہیروگلیف کہتے ہیں، رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ کے زمانے تک غالب زبان تھی، یعنی اکثر لوگ اس زبان سے واقف تھے یا اس زبان میں ہی گفتگو کرتے تھے۔

انہوں نے لکھا ہے کہ مصری زبان بہت پرانی زبان ہے، اور عربی اس زبان سے بہت زیادہ اثر پذیر رہی ہے، جس کی وجہ سے بہت سے الفاظ اور نام مصری اور عربی زبان مین مشترک ہیں۔ مثال کے طور پہ انہوں نے، برک، ختم پیش کیا ہے اور ناموں میں، تیماء، فدک، تبوک، حجاز، خیبر، مکہ، طائف، یثرب اور ۔۔۔ پیش کیے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ سب نام عربی نہیں، بلکہ مصری ہیں۔ اس کے ساتھ ان الفاظ اور اسامی کی مصری شکل اور ترجمہ بھی پیش کیا ہے۔

ان  کے علاوہ قرآنی الفاظ کا بھی ذکر کرتے ہیں، جو ان کے مطابق عربی نہیں، بلکہ مصری ہیں، ان الفاظ میں سے ایک “علق” ہے۔ جو سورہ علق کی دوسری آیت میں آیا ہے۔ اس لفظ کے بارے میں فرماتے ہیں، کہ چونکہ یہ لفظ ظاہری طور پہ لفظ “علقہ” کی طرح ہے مفسرین اس کا ترجمہ ‘جما ہوا خون’ کرتے ہیں۔ جو درست نہیں، کیونکہ “علقہ” عربی میں صرف مونث شکل میں استعمال ہوا ہے اور مذکر صورت [یعنی 'علق'] میں استعمال نہیں ہوا ہے۔ اس کے علاوہ ان آیات میں پڑھنے لکھنے کے بارے میں گفتگو ہو رہی ہے، یہ معنا سیاق و سباق سے تناسب نہیں رکھتا۔ لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ لفظ مصری زبان کا ہے، اور مصری زبان میں اس کا مطلب عقل، فکر، فہم اور سمجھ ہے۔ اب اگر اس بات کی روشنی میں ترجمہ کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ یہ لفظ کتنا مناسب ہے۔ اصل میں یہاں انسان اور حیوان کے تمایز کی بات ہورہی ہے جو عقل، فکر اور سمجھ ہے۔ اسی لیے پڑھنے اور قلم کا ذکر کیا ہے۔

کچھ اور قرآنی الفاظ کا  بطور مثال ذکر کیا ہے جو  اصل میں مصری ہیں۔ وہ یہ ہیں: الصاخہ، الحاقہ، الحطمۃ، حور عین، سمک، فردوس، برزخ۔ ان سب کے ساتھ بھی مصری شکل اور ترجمہ لکھا ہے۔

حروف مقطعہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ حروف نہیں، بلکہ مصری الفاظ ہیں جو قرآن میں حروف کی شکل میں لکھے گئے ہیں۔ ان حروف کو  مولف نے ‘رمز’ لکھا ہے۔ یعنی مثلا “کہیعص” یہ ایک رمز ہے جو پانچ مصری الفاظ سے بنا ہے، کاف + ھَ + یَ +عیین + صاد۔ ان میں سے ہر لفظ کی ہیروگلیف شکل اور ترجمہ کے بعد اس رمز کا جملے کی شکل میں ترجمہ پیش کیا ہے۔

اسی طرح تمام حروف مقطعہ کا ترجمہ کیا ہے، اگر مجھے توفیق ملی تو ان شاء اللہ اس کتاب کے چند اقتباس تصاویر کے ساتھ یہاں پیش کروں گا۔

یہ اس لیے میں نے لکھا کہ اگر آپ کو تفسیر قرآن کا شوق ہو ، تو یہ کتاب ضرور پڑھیں۔ مولف کی نظر سے متفق ہونا ضروری نہیں، لیکن پھر بھی یہ کتاب پڑھنے کے لائق ہے۔

والحمد للہ العلی

سید محمد نقوی

Share This Post

عید پر ایک تحفہ

مناسبت، نثر 10 آراء »

بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوچا عید پر خالی مبارک باد سے تو کام نہیں چلے گا، کیوں نہ ایک تحفہ بھی ساتھ دے دیا جائے۔ نہج البلاغہ میں ایک بہت اچھا تحفہ ملا جو حاضر خدمت ہے۔

قال  الامام امیرالمومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام فی بعض الاعیاد۔

اِنَّمَا ھُوَ عیِدٌ لِّمَنْ قَبِلَ اللہُ صِیَامُہُ، وَ شَکَرَ قِیَامَہُ۔

وَ کُلُّ یَوْمٍ لَّا یُعْصیٰ اللہُ فِیہِ فَھُوَ یَوْمُ عِیدٍ۔

ترجمہ

حضرت امام امیرالمومنین علی علیہ السلام نے کسی عید کے موقع پر فرمایا:

یہ عید تو اسی کی ہے جس کے روزے خدا قبول کرے، اور عبادت منظور ہوجائے،

اور (اصل میں تو) جس دن خدا کی نافرمانی نہ کی جائے وہ عید ہے۔

[نہج البلاغہ-ملفوظات 422-ترجمہ: جناب علامہ سید مرتضی حسین فاضل لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ]

تمام مسلمانوں کو عید الفطر مبارک ہو، اس دعا کے ساتھ کہ یہ عید حقیقتا ہم سب کی عید ہو۔ ان شاء اللہ

اسعد اللہ ایامکم و تقبل اللہ اعمالکم

محتاج دعا

سید محمد نقوی

عید الفطر ۱۴۳۰

Share This Post

اے صاحبان خرد، عبرت حاصل کرو۔۔۔

فکر، مناسبت، نثر 9 آراء »

بسم اللہ الرحمن الرحیم

سبحان الذی اسری بعبدہ لیلا من المسجد الحرام الی المسجد الاقصی الذی بارکنا حولہ

رمضان المبارک اپنے اختتام پر ہے۔ آج جمعۃ الوداع ہے۔ سڑک سے مجھے امریکہ مردہ باد، اور اسرائیل مردہ باد کے نعروں کی آواز آرہی ہے۔ مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع جو ہر سال جمعۃ الوداع میں اسراءیل اور امریکہ کے خلاف احتجاج کر کے، فلسطینی عوام کا ساتھ دیتا ہے۔ میری کوشش رہا کرتی تھی کے اس احتجاج میں شریک ہوں۔ جب سے بہت چھوٹا تھا، اس میں شریک ہوتا آرہا ہوں۔

لیکن ہمیشہ مجھے تعجب ہوتا تھا کہ اس کا فائدہ کیا ہے۔ یہ ہی لوگ جو آج نعرے لگا رہے ہیں۔ اگر کل ان کو امریکا کی شہریت ملنے کا موقع نصیب ہو، بھاگتے ہوئے وہاں پہنچ جائیں گے۔ احتجاج ختم ہوتے ہی ان کی بنائی ہوئی فلمیں دیکھیں گے۔ ان کی بنائی ہوئی چیزیں استعمال کریں گے۔ حد تو یہ ہے کہ آجکل تقریبا ہر اس بندے کے ہاتھ میں آپ کو اسرائیل سے منسلک کمپنی کا موبائل فون نظر آئے گا جو اسرائیل کا مخالف ہو گا۔ کیا اس احتجاج کا کوئی فائدہ ہوگا؟

میرا مطلب یہ نہیں کہ احتجاجات نہ ہوں۔ کچھ نہ کریں تو احتجاج ہی کرتے رہیں۔ لیکن کیا یہ کافی ہے۔ آج میں یہی سوچ رہا تھا۔ کہ ہمارا فریضہ کیا ہے؟

اس وقت اسرائیلی یہودی تقریبا دنیا پر اقتصادی یا سیاسی لحاظ سے قابض ہیں۔ ہمیں کیسے ان کا مقابلہ کرنا ہوگا؟

یہ لوگ اگر آج اس جگہ پہنچے ہیں تو یہ ان کی سو یا ہزار پشتوں کی کاوش کا نتیجہ ہے۔ یہودیوں کی تاریخ پر اگر نظر دوڑائی جائے تو واضح نظر آئے گا کہ انہوں نے بہت عرصے سے ان دنوں کے لیے منصوبے بنا رکھیں تھے۔

اس کی ایک واضح مثال نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ کے دور میں ملتی ہے۔ یہودی مدینے کے باشندے نہیں تھے۔ لیکن جب وہاں رہنے لگے تو کچھ عرصے میں اس مقام پر پہنچے کے، خود مدینے والوں سے زیادہ امیر ہو گئے، ان کی زمینوں پر قابض ہو گئے، اور سیاسی طور پر بھی مضبوط ہوگئے۔ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ کی سیاسی حکمت علمی تھی کہ آپ ص نے ان کے ہاتھ کاٹ دیے اور ان کو مدینے سے نکال دیا۔ اگر مسلمان اس راہ پر چلتے تو ہمیں یہ دن دیکھنے نصیب نہ ہوتے۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ آپ ص کے بعد مسلمانوں نے اس راہ کو چھوڑ کر دوبارہ انھی یہودیوں سے دوستی شروع کردی جو ہمارے لیے نہایت مضر ثابت ہوئے۔

یہ ہی نمونہ فلسطین میں ہوا۔ آہستہ آہستہ یہودی فلسطین پر قابض ہو گئے۔ اور مسلمانوں کو دوبارہ راہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ سے دوری کا مزہ چکھنے کو مل گیا۔

کیا آج، یہ حالت ہمارے لیے مقام فکر نہیں۔ جبکہ ہمارے ملک میں بھی فلسطین کی طرح قبضہ جمانے کی سازشیں شروع ہو گئی ہیں۔ اپنے ہی ملک میں ہم امریکی مجرموں سے ڈرتے ہیں۔ اگر صورتحال ایسی ہی رہی، تو دور نہیں ہیں وہ دن جب ہم بھی مظلوم فلسطینیوں کی طرح اپنے گھربار سے آوارہ دوسرے ملکوں میں پناہ ڈھونڈتے پھریں گے، یا اپنے ملک میں مجرموں کی جوتیاں سیدھی کریں گی۔

آج کے دن احتجاج کے ساتھ ہمیں یہ سوچنا چاہیے، کہ ان حالات سے کیسے نجات حاصل کریں۔ صرف نعرے لگانے سے امریکہ، اسرائیل ختم نہیں ہو جائیں گے۔

جو چیز سب سے زیادہ ان کی مدد کرتی ہے وہ یہ ہے کہ ہماری قوم جہالت میں رہے، اس زیادہ ان کے لیے مفید یہ ہے کہ ہم پڑھے لکھے جاہل ہوں۔

اگر اربوں جاہل ان کے خلاف نعرے لگائیں، ان پر کوئی اثر نہ ہوگا۔ لیکن اگر چند، بقول قرآن کریم کے “فئۃ قلیلۃ” عالم اور دانشور ایک نعرہ لگائیں ظلم کی بنیادیں ہل جائیں گی۔ جیسے ولادت نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ پر قصر کسری کے ۱۴ ایوان گرے تھے، وہ نہ فقط ایک معجزہ، بلکہ ایک نشانی تھی کہ علم اور اخلاص کی قدرت دکھانی تھی۔

امید ہے کہ اس عظیم مہینے کی برکت سے مسلمانوں میں یہ شعور جاگ جائے کہ اختلافات کو چھوڑ کر، اپنے مسائل کو خلوص کے ساتھ حل کریں۔ اپنے ملکوں کو خیرباد کہہ کر غیر ملکوں میں غیروں کی غلامی چھوڑ دیں، اپنے ملک و قوم کی ترقی اور بہبود کی کوشش کریں۔

مجھے لگتا ہے وہ دن نزدیک ہیں۔

ایک ضروری بات یہ ہے، کہ یہودی سے میرا مطلب ہر یہودی نہیں ہے، کیونکہ اکثر عام یہودی، ہر قوم کی طرح بے گناہ ہیں۔ بلکہ مراد وہ اکبر یہود ہیں، جو جان بوجھ کر اسلام اور مسلمانوں کا نام مٹانا چاہتے ہیں۔-

فاعتبروا یا اولی الابصار

اس کے ساتھ ہی آپ سب کو ایک شعور انگیز عید مبارک ہو۔

والحمد للہ العلی

جمعۃ الوداع  ۱۴۳۰

سید محمد نقوی

Share This Post

باپ

شعر، نثر رائے ديں »

بسم اللہ الرحمن الرحیم

چند دنوں قبل رجب کی تیرہ تاریخ تھی۔ امت مسلمہ کے باپ کی ولادت کادن تھا۔ میں نے سوچا کہ امام علی علیہ السلام کے متعلق ہی کچھ لکھ دوں، لیکن اپنے قلم کی حقارت اور ان کی عظمت دیکھ کر، اس موضوع پر قلم زنی کو کسی اور موقع پر چھوڑ دیا۔ کہاں امیرالمومنین اور کہاں میرا ناتواں قلم۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ اور علی علیہ السلام مسلماں قوم کے والد ہیں۔ اگر اس عظیم دن میں ان دو عظیم تر ہستیوں کے بارے میں لکھنے کا قابل نہیں کم از کم ان کو خراج تحسیں تو پیش کر سکتا ہوں۔ تو آج کے دن یہیں سے اپنی کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ کر ان دو ہستیوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔ اور دعا کرتا ہوں کہ ان کے صدقے انسانوں کو اس پست حالت سے، نکال کر، خدا ہم سب کی ہدایت کرے، ہوش دلائے، انساں کی عظمتوں کا احساس دلائے۔ ہمیں وہ دن دکھائے کہ جب دین کے نام پر انسانوں کا قتل اور بے حرمتی نہ ہو۔ جب انسانیت سستے داموں بیچی نہ جائے۔ آمین

ان دنوں ایک بات اور بھی دل میں ہے جو آج مناسبت کی خاطر لکھ دینا چاہتا ہوں۔ ہم جس دور میں رہ رہے ہیں، دنیا ترقی یافتہ ہوگئی ہے۔ لوگوں کے پاس وقت کم ہے، یا یوں کہوں کہ لوگوں نے خود کو اتنا مصروف کر لیا ہے کہ وقت کم رہ جاتا ہے۔ زندگی کے تقاضے بدل گئے ہیں، اور طرز زندگی تو تقریبا بالکل بدل گیا ہے۔ اس میں بہت سی خوبیاں ہیں اور بہت سی خامیاں۔ ان خامیوں میں سے ایک یہ ہے، کہ خاص طور پہ مغربی معاشرے میں اور ان کی اتباع میں ہمارے مشرقی معاشرے میں بھی باپ کا احترام کم کیا جا رہا ہے۔ مغرب نے ترقی پانے کے لیے ایک قربانی خاندان کی دی۔ انہوں نے ترقی کی منزلیں طی کرنے کے لیے، خاندانی اور فیملی کا نظام ختم کردی۔ یہاں تک کے خاندانی رشتوں کا اعتبار اور احترام ختم کردیا۔ میں اس موضوع پر لمبی بحث کرنا نہیں چاہتا۔ بس اس لیے یہ لکھ دیا تا کہ ہمیں احساس ہو کہ ہم کہاں جا رہے ہیں۔ کہیں دنیا کی ترقی ہمیں انسانی قدروں سے دور نہ کر دے۔ مغرب ہر بات میں اندھی نقل ہمیں کہاں لے جا رہی ہے۔ تھوڑی دیر اس موضوع پر سوچا جائے۔ کہ کیا اگر وہ ترقی کر گئے ہیں تو ان کی ہر بات میں نقل کرنی چاہیے؟

ہاں کوئی معاشرہ ایسا نہیں جس میں خوبیاں نہ ہوں۔ مغربی معاشرے میں بھی خوبیاں ہیں۔ ہم ان کی خوبیاں کیوں نہیں دیکھتے، ہمیں صرف ان کی عیاشی اور اس طرح کی برائیاں کیوں نظر آتی ہیں۔ اگر وہ ترقی کر پائے تو اس میں ان کی خوبیاں زیادہ شامل تھیں، نہ عیاشیاں۔ کچھ دیر ہمیں ان مسائل پر غور کرنا چاہیے۔

بات باپ کے احترام کی کر رہا تھا۔  آج کے دن میں نے سوچا کہ کس طرح اپنے والد کو خراج تحسین پیش کروں۔ والد سے مراد میرا صرف میرے بابا نہیں، بلکہ دادا، نانا، پر دادا، پر نانا، ماں، نانی، دادی، پر نانی، پر دادی اور ۔۔۔ سب مراد ہیں، ہر وہ شخص جو میری فکری اور ذہنی تربیت کرنے میں شریک ہے۔ میں ان سب کو سلام اور آداب پیش کرتا ہوں۔ جو اگر نہ ہوتے، اور ان کی محنتیں نہ ہوتیں تو نہ جانے اس بڑی دنیا میں، میں کہاں ہوتا۔ میں ان سب کا نام لانے سے قاصر ہوں۔ لیکن ہدیہ کے طور پہ ایک نظم لکھی ہے جو پیش کرتا ہوں۔ اس میں اپنے بعض محسنوں کا نام لاسکا ہوں، یعنی والد، والدہ، پر دادا مرحوم، دادا مرحوم اور نانا ابو کا جنہیں اللہ طول عمر عطا کرے۔ میں شعر کہنے میں بہت اچھا نہیں ہوں، امید ہے کہ یہ بزگوار میری اس گستاخی کو معاف کرِن گے۔ اور آپ پڑھنے والے بھی میری نظر خراشی کو۔ اللہ ہمیں، اپنے والدین کا حق ادا کرنے میں کامیاب کرے۔ آمین۔۔

*****

میرے ہاتوں کو قلم سے آشنا کس نے کیا؟

کس نے دل میں عشق احمد کا جلایا ہے دیا؟

میں نے مانا کہ یہ سب ہے میرے رب کی ہی عطا

پر مجھے یہ تو بتا، رب آشنا کس نے کیا؟

مرتضی ہے کہ مثنی یا کہ آغا بارہوی

فاضل بن فاطمہ کو جو ملا اِن سے ملا

یہ بزرگوں کا کرم ہے، اور انہی کی محنتیں

ورنہ میں تو لائق مداحی حیدر نہ تھا

شکر اے رب، اے خداے ذوالمنن والا مکاں

تیرے در پر اس سراپا عجز کی ہے التجا

میرے محسن ہیں بہت دونوں جہاں میں، محو حمد

ان کو تو ہرگز نہ کرنا اپنی رحمت سے جدا

و الحمد للہ العلی

۲۰ رجب ۱۴۳۰

سید محمد نقوی (فاضل)

Share This Post

میری پہلے غزل

شعر 2 آراء »
بسم اللہ الرحمن الرحیم

مجھے بچپنے سے ہی شعر و شاعری کا شوق تھا۔ کچھ بچپنے میں، بچوں والے شعر کہے بھی تھے جو ضایع ہو گئے۔ [اچھا ہی ہوا۔ محفوظ ہونے کے قابل بھی نہ تھے۔] کچھ عرصے پہلے میں نے اس شوق پہ دوبارہ توجہ دی اور شعر کہنے کی کوششیں شروع کی جس کے نتیجے میں سب سے پہلے کچھ قصیدے اور ایک غزل لکھی جو پیش کر رہا ہوں۔ چاہتا تھا کہ پہلے قصیدہ پیش کروں لیکن میری کوشش ہے کہ اس کو کچھ بہتر کرلوں پھر انشا اللہ پیش کروں گا۔ امید ہے کے اپنی بیش قیمت آراء سے نوازیں گے۔ شکریہ

مجھے کچھ اے مرے ساقی پلاؤ
ذرا اک ساغر عالی پلاؤ

مری تشنہ دہانی کہہ رہی ہے
مجھے کچھ بہر سیرابی پلاؤ

مرا رونے کو دل کرتا ہے ساقی
مجھے کچھ بہر دلداری پلاؤ

مرا ساغر بہت چھوٹا ہے ساقی
مجھے اب جام سے عاری پلاؤ

نہیں بھاتی ہے اب دنیاے فانی
بقا کا مجھ کو اب پانی پلاؤ

یہ ہے میخانہ عشق محمد
مجھے اے احمد ثانی پلاؤ

سید محمد نقوی

عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم

۱۷ ربیع الاول ۱۴۳۰

Share This Post

مدح جعفر میں ہی مضمر ہے پیمبر کی ثنا

مناسبت رائے ديں »

بسم اللہ الرحمن الرحیم

شب عید میلاد النبی کو ایک محفل میں شرکت کا اعزاز حاصل کیا۔ وہاں میرے دوست جناب سید یونس حیدر رضوی صاحب نے ایک قصیدہ پڑھا جو مجھے سب سے زیادہ پسند آیا۔ اسی لیے ان سے اجازت لے کر اس کو یہاں نقل کر رہا ہوں۔ امید ہے کہ آپ کو بھی پسن آئے۔ یہ قصیدہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے بارے میں ہے۔ قصیدہ یہ ہے:

پوچھیے اہل خرد سے ماہ اختر کی ثنا

پر مہ تاباں کرے گا بس پیمبر کی ثنا

نور احمد سے چراغاں ہو کے مکہ کی زمیں

کر رہی ہے جھوم کر ماہ منور کی ثنا

کب تلک اتراے گا یہ ماہ اپنے حسن پر

ہو کے ٹکڑے وہ سناے گا پیمبر کی ثنا

تذکرہ جب بھی چھڑے گا انجم خورشید کا

ہو گی بس زہرا کے در کی اور حیدر کی ثنا

اب  بھی آتی ہے غدیر خم سے یہ پیہم صدا

حق کا متوالا ہی کرسکتا ہے منبر کی ثنا

فاصلہ الفت کا ہوجائے گا کچھ نزدیک اور

کر لے اک لمحہ زلیخا گر پیمبر کی ثنا

دیکھ کر انوار اہل بیت آدم نے کہا

مدح جعفر میں ہی مضمر ہے پیمبر کی ثنا

دیکھیے قرآن و عترت کا انوکھا امتزاج

سر ہے نیزے پہ مگر لب پر ہے داور کی ثنا

آج یونس مل گیا پروانہ جنت مجھے

کر رہا تھا محفل مدحت میں جعفر کی ثنا

جناب سید یونس حیدر رضوی

عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم

۱۷ ربیع الاول ۱۴۳۰

Share This Post

جملہ حقوق بحق فاضل کا بلاگ محفوظ ہيں.